مجموعی شرح پیدائش (TFR) اپنی زندگی میں بچوں کی پیدائش کے عرصے میں ایک عورت کے ہاں جنم لینے والے بچوں کی اوسطا تعداد ہوتی ہے۔ یہ تعداد اکثر یہ فیصلہ کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے کہ آیا کوئی قوم ترقی و خوشحالی حاصل کرے گی یا غربت، بیماری، ناخواندگی اور بھوک میں مبتلا رہے گی۔ پاکستان میں TFR کی تیز رفتار اور بے قابو شرح 3.6 ہے۔ جو یقیقنی طور پر مؤخر الذکر صورت حال کا رخ کررہی ہے۔

یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ دنیا کے سب سے خوش حال اور ترقی یافتہ خطوں ریاستہائے متحدہ امریکہ، کینیڈا اور یورپ، میں TFR کی شرح 2 فیصد سے نیچے ہے۔ اس کے برعکس، نائجر، کانگو، مالی، چاڈ، نائیجیریا، انگولا اور گیمبیا میں TFR کی شرح 5 فیصد سے زائد ہے۔ اس میں بھی کوئی اتفاق نہیں ہے کہ چین، تھائی لینڈ، سنگاپور، جنوبی کوریا اور ہانگ کانگ جیسے ممالک جنہوں نے انقلابی پیشرفت اور خوشحالی حاصل کی ہے، ان ممالک میں TFR کی شرح 2 فیصد سے بھی کم ہے۔ گذشتہ 50 برسوں میں بنگلہ دیش کی غیر معمولی کامیابی کی وجہ بھی یہی ہے کہ انھوں نے اپنی TFR کو 6.9 سے کم کرکے 1.99 تک کر دیا ہے۔ اب وہ پائیدار ترقیاتی اہداف کو پورا کرنے میں پاکستان سے میلوں آگے ہیں۔

2040 تک پاکستان میں آبادی کا تخمینہ 300 ملین یعنی 30 کروڑ کو عبور کرنے کا لگایا گیا،پاکستان کی آبادی میں اس اضافے سے اس کی تمام معاشی اور معاشرتی ترقی اور اس کے پرامن اور خوشحال ملک بننے کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ ملک میں پہلے سے ہی 23 ملین بچے اسکولوں سے باہر ہیں، 25 لاکھ بچے مدارس میں ہیں اور روزانہ اس تعداد میں 18 ہزار کی نئی کھیپ پہنچ رہی ہے۔ پاکستان کی مستقبل کی تصویر انتہائی غربت، افراتفری، انتہا پسندی اور لاقانونیت کا منظر دکھا رہی ہے۔

اگرچہ اس ٹک ٹک کرتے ٹائم بم کو سنبھالنے اور کنٹرول کرنے کے لئے ریاست کی پہلی اور اہم ترجیح اس مسئلہ پر قابو پانے کی ہونا چاہیئے تھی۔ لیکن اس طرح کے احساس یا ردعمل کی کوئی علامت نظر نہیں آتی۔ پاکستان ایران اور بنگلہ دیش سے بہت کچھ سیکھ سکتا تھا کہ انہوں نے کس طرح علماء اورمذہبی رہنماؤں کو آبادی پر قابو پانے کے لئے فتوے دینے اور مساجد کا استعمال کرنے کے لئے تیار کیا۔ پاکستان کو بھی اپنے مذہبی رہنماؤں کو خاندانی منصوبہ بندی (ایف پی) کے قومی بیانیہ کی حمایت اور تائید کرنے کے لئے بھرپور طریقے سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح، سیاسی رہنماؤں، کارپوریٹ سیکٹر، اکیڈمی، میڈیا، سول سوسائٹی اور نوجوانوں کے ذریعے (ایف پی )مہمات کا انعقاد کرنے میں اہم کردار ادا کیا جاسکتا ہے۔

اس سلسلے میں ازدواجی زندگی سے پہلے مشاورت کو لازمی قرار دیا جانا چاہئے اور اسے نکاح نامے میں شامل کیا جانا چاہئے۔ کم عمری کی شادی پر پابندی کا ایکٹ، شادی کے لئے کم سے کم عمر 18 سال مقرر کرتے ہوئے، تمام صوبوں میں قانون سازی اور اس کا نفاذ کیا جانا چاہئے۔ نکاح نامہ میں بھی ترمیم کرنے کی ضرورت ہے۔ جس میں دلہن، دلہا اور ان کے والدین کی CNIC معلومات کے لئے علیحدہ کالم کی عکاسی کی جاسکے۔

مربوط خاندانی منصوبہ بندی (ایف پی) کی خدمات، تمام صحت مراکز، اور حمل کے بعد خاندانی منصوبہ بندی (پی پی ایف پی) پر دستیاب ہونا چاہئے جو تمام سرکاری اور نجی کلینک اور اسپتالوں میں متعارف کرایا گیا ہے۔ اسی طرح، خواتین کو بھی ولادت کے وقت مانع حمل حمل کے جدید طریقوں تک رسائی حاصل کرنا ہوگی۔ پاکستان بھر کے تمام کنبوں اور گھروں کو مشاورت اور ایف پی خدمات فراہم کرنے کے لئے کمیونٹی ہیلتھ ورکر اسکیم کو دوبارہ منظم کرنا ہوگا۔

دسویں جماعت تک کے لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے لازمی تعلیم کی فراہمی آبادی کے کنٹرول کے لیے بہت موثرہو سکتی ہے۔ یہ ترغیبی اور روک تھام کی اسکیموں کے امتزاج سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح، 16 سال سے کم عمر کے بچوں کی مزدوری (گھریلو مزدوری سمیت) کی مکمل ممانعت سے ان والدین کی حوصلہ شکنی ہوگی، جو اپنے بچوں کو اضافی کمائی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

نو بیاہتا جوڑوں کو چھوٹے کنبے رکھنے اور پہلے بچے کی پیدائش کو 20 سال یا اس سے زیادہ عمر تک مؤخر کرنے کی ترغیب دی جانی چاہئے۔ شرح پیدائش کو کم کرنے کے لیے تمام مقامات پر مانع حمل ادویات تک آسان اور سستی رسائی کو یقینی بنایا جانا چاہئے۔

سونامی یا زلزلے کے برعکس، آبادی میں اضافہ زیادہ تباہی پھیلاتا ہے۔ یہ آہستہ آہستہ کسی بھی ملک کو ایسی دلدل میں دھنسا دیتا ہے، جس سے نکلنا آسان نہیں ہے۔ فی الحال ہماری غیر فعال اور ناکارہ قومی اور صوبائی آبادی کی ٹاسک فورس صرف اس عمل کو تیز کر سکتی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کے عوام اپنے مستقبل کی ذمہ داری قبول کریں اور مطالبہ کریں کہ حکومت حقیقت کا سامنا کرے اور اس خطرے کا جواب دینے کے لئے اٹھ کھڑی ہو۔